LUBP is Pakistan’s leading political website, one of the largest in terms of traffic and original articles. It represents alternative media in Pakistan reflecting citizen journalism and advocacy. LUBP is independent, critical, progressive and inclusive. It supports progressive and pluralistic political parties in Pakistan and beyond.

No results.

کرنل شجاع کی شہادت مسلم لیگ نواز کی کالی بھیڑوں کی وجہ سے ہوئی جن کے کال

کرنل شجاع کی شہادت مسلم لیگ نواز کی کالی بھیڑوں کی وجہ سے ہوئی جن کے کالعدم تنظیموں سےتعلقات ہیں -حامد رضا
مسلم لیگ نواز کی کالی بھیڑوں سے مراد یقینی طور پر رانا ثنا اللہ ،چودھری نثار ،اور شہباز شریف ہیں- یکے بعددیگرے ہو نے والے ان واقعات سے سمجھ لینا چا ہیے کہ یہ کون لوگ ہیں جوما ڈل ٹاؤن ، سانحہ قصور، اور اب شجاع خان زادہ کی شہادت کے پیچھے ہیں اور شواہد ہو نے کے باوجود ان کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ پکڑ میں نہیں آ رہے لیکن بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی پنجاب میں دہشت گردی کے سارے تانے بانے بلا آخر انہی تینوں سے جا کر ملتے ہیں جو بنیادی طور پر کالعدم تنظیموں کے سہولت کار ہیں
ڈان کے بیوروچیف افتخار شیرازی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی شجاع خانزادہ کے اہل خانہ سے بات ہوئی ہے جس میں ان کے اہل خانہ میں سے بعض نے پنجاب حکومت کی ایک اہم شخصیت پر کرنل شجاع خانزادہ کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے اور افتخار شیرازی کا کہنا ہے کہ کرنل شجاع خانزادہ اھل خانہ نے یہ شبہ چیف منسٹر شہباز شریف تک پہنچادیا ہے لیکن جیسے ہی یہ شبہ لاہور پہنچا تو تب سے ان کے اھل خانہ کو سنگین دھمکیاں موصول ہورہی ہیں اور پنجاب حکومت کے اندرسے بھی ان کو یہ نام نہ لینے پر مجبور کیا جارہا ہے
کرنل شجاع خانزادہ کےاہلخانہ نے نے پنجاب کی جس اہم شخصیت کا زکر کیا ہے وہ رانا ثناء اللہ صوبائی وزیر قانون کے علاوہ اور نہیں ہے جبکہ شہباز شریف نے کرنل شجاع خانزادہ کی وفات کے بعد پھر پولیس اور دیگر محکموں کو رانا ثناءاللہ کو غیراعلانیہ طور پر سونپ ڈالا ہے -کل وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پنجاب ھاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پہلے کرنل شجاع خانزادہ کے قتل کو اندھا قتل قرار دے ڈالا اور پھر یہ کہا کہ سیکورٹی لیپس اگر تھا بھی تو یہ شجاع خانزادہ کی زمہ داری بنتی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ شجاع خانزادہ کو ان کے گاؤں جانے سے روکا گیا تھا اور ان کو برآمدے میں نہیں آنا چاہئیے تھا وفاقی وزیر داخلہ نے کرنل شجاع خانزادہ کے قتل کے حوالے سے ملزمان کی گرفتاریوں کی خبروں پر ان کا رد عمل تھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور انہوں نےاسلام آباد میں گرین بیلٹ پر نائنتھ ایونیو پر بنے ناجائز دیوبندی مدرسہ جامعہ حقانیہ پر چھاپے کا کرنل شجاعخانزادہ کی شہادت سے جوڑنے کو غیرزمہ دار صحافت قرار دے ڈالا جبکہ انگریزی روزنامہ ڈان کے رپورٹر منور عظیم نے دو دن پہلے جو خبر اس مدرسے پر چھاپے کے حوالے سے فائل کی تھی اس میں سنٹرل پولیس اور سی ٹی ڈی کے حکام کے زریعے سے یہ بتایا تھا کہ یہ چھاپہ کرنل شجاع خانزادہ کے قتل کے اندر ملوث ملزمان کے اس مدرسے میں موجود ہونے کی پکی اطلاعات پر مارا گیا تھا ،
'کرنل شجاع کی شہادت مسلم لیگ نواز کی کالی بھیڑوں کی وجہ سے ہوئی جن کے کالعدم تنظیموں سےتعلقات ہیں -حامد رضا
مسلم لیگ نواز کی کالی بھیڑوں سے مراد یقینی طور پر رانا ثنا اللہ ،چودھری نثار ،اور شہباز شریف ہیں- یکے بعددیگرے ہو نے والے ان واقعات سے سمجھ لینا چا ہیے کہ یہ کون لوگ ہیں جوما ڈل ٹاؤن ، سانحہ قصور، اور اب شجاع خان زادہ کی شہادت کے پیچھے ہیں اور شواہد ہو نے کے باوجود ان کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ پکڑ میں نہیں آ رہے لیکن بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی پنجاب میں دہشت گردی کے سارے تانے بانے بلا آخر انہی تینوں سے جا کر ملتے ہیں جو بنیادی طور پر کالعدم تنظیموں کے سہولت کار ہیں
ڈان کے بیوروچیف افتخار شیرازی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی شجاع خانزادہ کے اہل خانہ سے بات ہوئی ہے جس میں ان کے اہل خانہ میں سے بعض نے پنجاب حکومت کی ایک اہم شخصیت پر کرنل شجاع خانزادہ کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے اور افتخار شیرازی کا کہنا ہے کہ کرنل شجاع خانزادہ اھل خانہ نے یہ شبہ چیف منسٹر شہباز شریف تک پہنچادیا ہے لیکن جیسے ہی یہ شبہ لاہور پہنچا تو تب سے ان کے اھل خانہ کو سنگین دھمکیاں موصول ہورہی ہیں اور پنجاب حکومت کے اندرسے بھی ان کو یہ نام نہ لینے پر مجبور کیا جارہا ہے
کرنل شجاع خانزادہ کےاہلخانہ نے نے پنجاب کی جس اہم شخصیت کا زکر کیا ہے وہ رانا ثناء اللہ صوبائی وزیر قانون کے علاوہ اور نہیں ہے جبکہ شہباز شریف نے کرنل شجاع خانزادہ کی وفات کے بعد پھر پولیس اور دیگر محکموں کو رانا ثناءاللہ کو غیراعلانیہ طور پر سونپ ڈالا ہے -کل وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پنجاب ھاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پہلے کرنل شجاع خانزادہ کے قتل کو اندھا قتل قرار دے ڈالا اور پھر یہ کہا کہ سیکورٹی لیپس اگر تھا بھی تو یہ شجاع خانزادہ کی زمہ داری بنتی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ شجاع خانزادہ کو ان کے گاؤں جانے سے روکا گیا تھا اور ان کو برآمدے میں نہیں آنا چاہئیے تھا وفاقی وزیر داخلہ نے کرنل شجاع خانزادہ کے قتل کے حوالے سے ملزمان کی گرفتاریوں کی خبروں پر ان کا رد عمل تھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور انہوں نےاسلام آباد میں گرین بیلٹ پر نائنتھ ایونیو پر بنے ناجائز دیوبندی مدرسہ جامعہ حقانیہ پر چھاپے کا کرنل شجاعخانزادہ کی شہادت سے جوڑنے کو غیرزمہ دار صحافت قرار دے ڈالا جبکہ انگریزی روزنامہ ڈان کے رپورٹر منور عظیم نے دو دن پہلے جو خبر اس مدرسے پر چھاپے کے حوالے سے فائل کی تھی اس میں سنٹرل پولیس اور سی ٹی ڈی کے حکام کے زریعے سے یہ بتایا تھا کہ یہ چھاپہ کرنل شجاع خانزادہ کے قتل کے اندر ملوث ملزمان کے اس مدرسے میں موجود ہونے کی پکی اطلاعات پر مارا گیا تھا ،'

×

Contact